بارہ سالہ علی شہر سے اپنے نانا کے گاؤں آیا تھا۔ گاؤں کے پیچھے ایک گھنا جنگل تھا جس کے بارے میں بزرگ کہتے تھے: "سورج ڈھلنے کے بعد وہاں کوئی نہیں جاتا۔"
علی کو تجسس ہوا۔ ایک شام وہ چپکے سے جنگل میں داخل ہو گیا۔ درخت اتنے گھنے تھے کہ شام سے پہلے ہی اندھیرا چھا گیا۔ اچانک اسے کسی کے رونے کی آواز آئی — ہلکی، درد بھری۔
وہ آواز کا پیچھا کرتا ہوا ایک پرانے، ٹوٹے ہوئے کنویں تک پہنچا۔ کنویں کے اندر جھانکا تو سانس رک گئی۔ نیچے ایک چھوٹا بچہ بیٹھا تھا... بالکل علی جیسا۔ وہی کپڑے، وہی شکل۔
بچے نے سر اٹھایا اور مسکرا کر کہا: "آخر تم آ ہی گئے۔ میں تین سال سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔"
علی کے ہاتھ سے ٹارچ گر گئی۔ کنویں میں کوئی نہیں تھا۔ لیکن اب اس کے پیچھے وہی رونے کی آواز آ رہی تھی — بالکل اس کے کان کے پاس۔
جب علی گاؤں واپس پہنچا تو نانی نے اسے گلے لگا کر کہا: "بیٹا، تمہارا جڑواں بھائی تین سال پہلے اسی جنگل میں کھو گیا تھا۔ آج اس کی برسی ہے۔"
علی نے کانپتے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ جنگل کے کنارے کوئی کھڑا تھا... بالکل اسی جیسا۔
To be continued.....
